اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں

اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں
اُداسیوں کا اگر یہ موسم
ٹهر گیا تو عذاب کرے گا،
نہ جی سکو گے نہ مر سکو گے
نہ کام ہی کوئ کر سکو گے
کسی کی ہر پل طلب کرے گا
اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں
سنو جو لمحے ہیں آج حاصل،
انہیں ہمیشہ سنبهال رکهنا
وفا کے گلشن میں چاروں جانب
بہار رکهنا نکهار رکهنا
محبت کا وقار لکهنا،
اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں
جہاں میں کتنے ہی لوگ آے
رہے بسے ہیں ، اجڑ گئے ہیں
مگر یہ جذبے ابد سے ہیں،
اور ازل تک رہیں گے
تم اپنی آنکهوں میں ، پہلے جیسا جال رکهنا
اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں
زرا یہ سوچو بچهڑ گیے تو،
کہاں ملیں گے
یوں ہی رہیں گی تمام راہیں
مگر یہ راہی نہ مل سکیں گے
بہار میں بهی خزاں کی صورت
نہ پهول ہر سمت کهل سکیں گے
نہ دل کو اپنے اداس رکهنا،
ہر اک جذبے کا پاس رکهنا
ملیں گے آخر یہ آس رکهنا
اُداسیاں بے سبب نہیں ہیں …

10268632_10152410882213291_2121374320655132326_n

Posted on May 24, 2014, in Urdu Poems and tagged , , , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s