ویسے تو کج ادائی کا دُکھ کب نہیں سہا

ویسے تو کج ادائی کا دُکھ کب نہیں سہا 
آج اُس کی بے رُخی نے مگر دل دُکھا دیا

موسم مزاج تھا ، نہ زمانہ سرشت تھا 
میں اب بھی سوچتی ہوں وہ کیسے بدل گیا

دُکھ سب کے مشترک تھے مگر حوصلے جُدا
کوئی بِکھر گیا تو کوئی مُسکرا دِیا

ایسے بھی زخم تھے کہ چھپاتے پھرے ہیں ہم 
درپیش تھا کسی کے کرم کا معاملہ

آلودۂ سخن بھی نہ ہونے دیا اُسے
ایسا بھی دُکھ ملا جو کسی سے نہیں کہا

تیرا خیال کر کے میں خاموش ہو گئی
ورنہ زبانِ خلق سے کیا کیا نہیں سُنا

میں جانتی ہوں ، میری بھلائی اسی میں تھی 
لیکن یہ فیصلہ بھی کچھ اچھّا نہیں ہُوا

میں برگ بر گ اُس کو نمو بخشتی رہی
وہ شاخ شاخ میری جڑیں کاٹتا رہا

– پروین شاکر

10258209_10152425403193291_7403753743667892020_o

Posted on May 24, 2014, in Parveen Shakir Poetry, Urdu Poems and tagged , , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s