تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں 
،مرے دل سے بوجھ اتار دو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں 
مجھے کوئی شام ادھار دو
مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو 
کہ چمک سکیں مرے خال و خد
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو ، 
مرے سارے زنگ اتار دو
کسی اور کو مرے حال سے 
نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ
میں بکھر گیا ہوں سمیٹ لو ، 
میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو
مری وحشتوں کو بڑھا دیا ہے 
جدائیوں کے عذاب نے
مرے دل پہ ہاتھ رکھو ذرا ، 
مری دھڑکنوں کو قرار دو
تمہیں صبح کیسی لگی ، 
مری خواہشوں کے دیار کی
جو بھلی لگے تو یہیں رہو ، 
اسے چاہتوں سے نکھار دو
وہاں گھر میں کون ہے منتظر 
کہ ہو فکر دیر سویر کی
بڑی مختصر سی یہ رات ہے 
اسی چاندنی میں گزار دو
کوئی بات کرنی ھے چاند سے 
کسی شاخسار کی اوٹ میں
مجھے راستے میں یہیں کہیں 
کسی کنج گل میں اتار دو

1655009_10152293423728291_1732956255_o

Posted on May 24, 2014, in Urdu Poems and tagged , , , , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s