نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو واقف اضطراب کر

 

نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو واقف اضطراب کر
جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اُسے خواب کر

ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا
جو تری تلاش میں گم ہوئے کبھی ان دنوں کا حساب کر

مرے صبر پر کوئی اجر کیا مری دوپہر پہ یہ ابر کیوں
مجھے اوڑھنے دے اذیتیں مری عادتیں نہ خراب کر

کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں
کبھی دل کو تھل کا مزاج دے کبھی چشم تر کو چناب کر

یہ ہجوم ِ شہر ستمگراں نہ سنے گا تیری صدا کبھی
مری حسرتوں کو سخن سنا مری خواہشوں سے خطاب کر

یہ جلوس فصل بہار ہے تہی دست، یار سجا اسے
کوئی اشک پھر سے شرر بنا کوئی زخم پھر سے گلاب کر

395043_10150538580403291_1216076312_n

Posted on January 8, 2014, in Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s