سنا ہوگا بہت تم نے ۔ ۔

 

سنا ہوگا بہت تم نے ۔ ۔
کہیں آنکھوں کی رم جھم کا ۔ ۔
کہیں پلکوں کی شبنم کا ۔ ۔
پڑھا ہوگا کہیں تم نے ۔ ۔
کہیں لہجے کی بارش کا ۔ ۔
… کہیں ساگر کے آنسو کا ۔ ۔
مگر تم نے، کبھی ہمدم!
کہیں دیکھے؟ کہیں پرکھے؟
کسی تحریر کے آنسو ۔ ۔ ؟
مجھے تیری جدائی نے،
یہی معراج بخشی ہے ۔ ۔
کہ میں جو لفظ لکھتا ہوں،
وہ سارے لفظ روتے ہیں ۔ ۔
کہ میں جو حرف بنتا ہوں،
وہ سارے بین کرتے ہیں ۔ ۔
میرے سنگ اس جدائی میں،
میرے الفاظ مرتے ہیں ۔ ۔
سبھی تعریف کرتے ہیں،
میری تحریر کی لیکن!!
کبھی کوئی نہیں سنتا،
میرے الفاظ کی سِسکی ۔ ۔
فلک بھی جو ہلا ڈالے،
میرے لفظوں میں ہیں شامل،
اسی تاثیر کے آنسو ۔ ۔ ۔
کبھی دیکھو میرے ہمدم!!
میری تحریر کے آنسو ۔ ۔ 

428609_10150576401353291_1367790608_n

Posted on January 8, 2014, in Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s