دسمبر کے بیت نہ جائیں

 

ٹھہرؤ!
کچھ پل بھلا کر اُن پُرانی باتوں کو
جو دُوری کا سبب تھیں
آؤ! دسمبر کی دُھوپ میں بیٹھ کر
مل جل کر باتیں کریں
کیا اچھا کیا بُرا؟
جنوری کی دہلیز پر
کچھ رنگ زیست کے بکھیریں
فروری میں ان رنگوں کو یکجا ہم کریں
مارچ اپریل میں پُر کیف ہواؤں اور بہاروں سے
صبح و شام ہم کریں
مئی جون کی جُھلستی اور لو دیتی گرمی کو
امن و سلامتی کے پنکھوں سے
کچھ سرد ہم کریں
کیا اچھا کیا بُرا؟
اس بات کو بُھول کر
جولائی اگست میں محبت کے گیت الاپ کر
ساون کی بھیگی رُتوں کا
مسرور و مگن ہو کر استقبال ہم کریں
ستمبر اکتوبر کی خوش کُن شاموں کو
اک دوجے کے سنگ خوش نما ہم کریں
اُف‘ ہائے اور سی میں خوش گزارن ہم کریں
فوز؟
کیا اچھا کیا بُرا؟
چھوڑو ان رسمی باتوں کو
آؤ!
اپنی چاہت کا اقرار جم جم کے ہم کریں
کہیں سہانے پل یہ
دسمبر کے بیت نہ جائیں

393427_10150521506703291_2136104642_n

Posted on January 8, 2014, in Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s