اُجاڑ بستی کے باسیوں! ایک دوسرے سے پرے نہ رہنا

 

اُجاڑ بستی کے باسیوں! ایک دوسرے سے پرے نہ رہنا
ہوا درختوں سے کہہ گئی ہے کِسی بھی رُت میں ہرے نہ رہنا

میں اپنے رُوٹھے ہُوے قبیلے کی سازشوں میں گھِرا ہُوا ہوں
تم اجنبی ہو تو میرے آنگن کی وحشتوں سے ڈرے نہ رہنا

پھٹے ہُوے بادباں کے پُرزے بِکھر بِکھر کے یہ کہہ رہے تھے
شکستہ کشتی کے ناخداؤ! ہواؤں کے آسرے نہ رہنا

یقیں ہے اب کے وصال موسم کے بانجھ پن کی دلیل ہوگا
تمھاری آنکھوں کی سیپیوں کا یہ موتیوں سے بھرے نہ رہنا

سخنورو! اس منافقت سے تو خودکشی کا شعار سیکھو
زبان کا زخم زخم ہونا، حروف کا کھُردرے نہ رہنا

دلوں کی بستی کے لوگ محسن اجڑ اجڑ کے یہ کہہ گئے ہیں
جہاں وفاؤں میں کھوٹ دیکھو، وہاں سخن میں کھرے نہ رہنا

384538_10150492558373291_2134140097_n

Posted on January 8, 2014, in Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s