مجھے پڑھتے ہو کیوں لوگو

 

مجھے پڑھتے ہو کیوں لوگو
مجھے تم مت پڑھو کیوں کہ 
اُداسی ہوں الم ہوں غم زدہ تحریر ہوں میں تو
جسے لکھا گیا رنجیدہ عالم میں
مجھے تم مت سنو لوگو کہ میں تو
کرب کے موسم کا نغمہ ہوں
دکھی بلبل کی آوازوں میں شامل ہوں
کسی ٹوٹے ہوئے دل سے نکلتی آہ ہوں میں تو
کئی روتی ہوئی آنکھوں کا آنسو ہوں
مجھے کیوں دیکھتے ہو تم
میں پتلی ہوں ، تماشا ہوں
میں لاشہ ہوں
غموں کو درد کو دل میں چھپائے جی رہا ہوں میں
مجھے پڑھتے ہو کیوں لوگو
کہ مجھ کو اُ س گھڑی لکھا گیا
جب کاتبِ تحریر کی آنکھوں سے اشکوں کی روانی تھی
وہ خود حیران تھا ، غمگین تھا اور دل گرفتہ تھا
مجھے پڑھتے ہوئے لوگو مجھے پڑھ کر
کہیں تم مبتلا غم میں نہ ہو جاؤ
مجھے تم مت پڑھو لوگو

1512789_582506051822028_1818247584_n

Posted on December 31, 2013, in Lovely Sad Poetry, Urdu Poems and tagged , , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s