ہم نے اُنکے سامنے اوّل تو خنجر رکھدیا،

 

ہم نے اُنکے سامنے اوّل تو خنجر رکھدیا،
پھر کلیجہ رکھدیا، دِل رکھدیا، سر رکھدیا،

قطرِ خُون سے کی ہم نے تواضعُ عِشق کی،
سامنے مہمان کے جو تھا مُیسر رکھدیا،

زِندگی میں پاس سے دَم بھر نہ ہوتے تھے جُدا،
قبَر میں تنہا مُجھے یاروں نے کیونکر رکھدیا،

دیکھیے اب ٹھوکریں کھاتی ہے کس کس کی نِگاہ،
رُوزنِ دیوار میں ظالم نے پتھر رکھدیا،

زُلف خالی، ہاتھ خالی، کس جگہ ڈھونڈیں اِسے،
تُم نے دِل لیکر کہاں اے بندہ پرور رکھدیا،

1528510_581523451920288_1422429064_n

Posted on December 30, 2013, in Lovely Sad Poetry, Urdu Poems and tagged , , . Bookmark the permalink. 1 Comment.

  1. قطرِ خُون سے کی ہم نے تواضعُ عِشق کی،
    سامنے مہمان کے جو تھا مُیسر رکھدیا،

    زِندگی میں پاس سے دَم بھر نہ ہوتے تھے جُدا،
    قبَر میں تنہا مُجھے یاروں نے کیونکر رکھدیا،

    دیکھیے اب ٹھوکریں کھاتی ہے کس کس کی نِگاہ،
    رُوزنِ دیوار میں ظالم نے پتھر رکھدیا،

    زُلف خالی، ہاتھ خالی، کس جگہ ڈھونڈیں اِسے،
    تُم نے دِل لیکر کہاں اے بندہ پرور رکھدیا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s