ہر پل دھیان میں بسنے والے


ہر پل دھیان میں بسنے والے، لوگ فسانے ہوجاتے ہیں

آنکھیں بوڑھی ہوجاتی ہیں،خواب پرانے ہوجاتے ہیں

ساری بات تعلق والی،جذبوں کی سچائی تک ہے
میل دلوں میں آجائے تو ،گھر ویرانے ہوجاتے ہیں

منظر منظر کھل اٹھتی ہے ،پیراہن کی قوسِ قزاح
موسم تیرے ہنس پڑنے سے اور سہانے ہوجاتے ہیں

جھونپڑیوں میں ہر اک تلخی پیدا ہوتے مل جاتی ہے
اس لیئے تو وقت سے پہلے طفل سیانے ہوجاتے ہیں

موسمِ عشق کی آہٹ سے ہی ہر اک چیز بدل جاتی ہے
راتیں پاگل کردیتی ہیں،دن دیوانے ہوجاتے ہیں

دنیا کے اس شور نے امجد کیا کیا ہم سے چھین لیا ہے
خود سے بات کیئے بھی اب تو کئی زمانے ہوجاتے ہیں

امجد اسلام امجد

Posted on December 28, 2013, in Amjad Islam Amjad Poetry and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s