کہیں سنگ میں بھی ہے روشنی

 

کہیں سنگ میں بھی ہے روشنی کہیں آگ میں بھی دُھواں نہیں
یہ عجیب شہرِ طلسم ہے! کہیں آدمی کا نشاں نہیں

نہ ہی اِس زمیں کے نشیب میں نہ ہی آسماں کے فراز پر
کٹی عمر اُس کو تلاشتے ، جو کہیں نہیں پر کہاں نہیں؟

یہ جو زندگانی کا کھیل ہے، غم و انبساط کا میل ہے
اُسے قدر کیا ہو بہار کی! کبھی دیکھیں جس نے خزاں نہیں

وہ جو کٹ گرے پہ نہ جُھک سکے’ جو نہ مقتلوں سے بھی رُک سکے
کوئ ایسا سر نہیں دوش پر، کسی منہ میں ایسی زباں نہیں

جو تھے اشک میں نے وہ پی لیے، لبِ خشک و سوختہ سی لیے
مرے زخم پھر بھی عیاں رہے، مرا درد پھر بھی نہاں نہیں

نہیں اس کو عشق سے واسطہ وہ ہے اور ہی کوئی راستہ
اگر اِس میں دِل کا لہو نہیں اگر اِس میں جاں کا زیاں نہیں

 امجد اسلام امجد

Posted on December 28, 2013, in Amjad Islam Amjad Poetry and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s