جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

تیرے میرے اَبد کا کنارہ ہے یہ
استعارہ ہے یہ
روپ کا داؤ ہے
پیارکا گھاؤ ہے
جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

صبح دم جس گھڑی، پھول کی پنکھڑی
اوس کا آئنہ جگمگانے لگے
ایک بھنورا وہیں، دیکھ کر ہرکہیں
شاخ کی اوٹ سے،سر اٹھانے لگے
پھول،بھنورا،تلاطم ہے، ٹھہراؤ ہے
جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

خواب کیا کیا چنے،جال کیا کیا بُنے
موج تھمتی نہیں،رنگ ُرکتے نہیں
وقت کے فرش پر،خاک کے رقص پر
نقش جمتے نہیں،اَبر جُھکتے نہیں
ہر مسافت کی دُوری کا ِسمٹاؤ ہے
جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

امجد اسلام امجد

Posted on December 28, 2013, in Amjad Islam Amjad Poetry and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s