مسافر ہوں

 

مسافر ہوں
ترے شہر محبت میں ذرا سی دیر ٹھہروں گا
چلا جاؤں گا اپنے راستے پر
زندگی کی رات ڈھلنے دے، بدن کو مات ہونے دے
رکی ہے جو لبوں پر بات، ہونے دے
ترا شہر محبت خوب ہے لیکن اسیری کا بہانہ ہے
ازل کی اولیں ساعت، ابد کا آخری لمحہ
یہیں پر مرتکز سارا زمانہ ہے
مگر مجھ کو
فصیل وقت کے ٹھہرے ہوئے اس دائرے کو پار کرنا ہے
ابد کی سرحدوں سے دور آگے
لاجوردی روشنی سے پیار کرنا ہے
ترا شہر محبت تو مرا پہلا پڑاؤ ہے
جسے تو آخری منزل سمجھتی ہے
دلوں کے راستوں پر وہ فقط اک نیم روشن سا الاؤ ہے
بڑی لمبی مسافت ہے، بڑا گہرا یہ گھاؤ ہے
ابد کے اس طرف بھی راستے ہی راستے ہیں
فاصلوں کا ایک نادیدہ بہاؤ ہے
جسے میں دیکھ سکتا ہوں
جسے میں چھو بھی سکتا ہوں
مگر میں تو مسافر ہوں
ترے شہر محبت میں ذرا سی دیر ٹھہروں گا

1471262_566384903434143_1569080892_n

Posted on December 27, 2013, in Lovely Sad Poetry, Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s