اب کتنی فصلیں بیت گئیں، اب یاد وہ کیا ہمیں آئیں بھی

 

اب کتنی فصلیں بیت گئیں، اب یاد وہ کیا ہمیں آئیں بھی
وہ زخم جو اب کی بھر بھی گئے، اب آؤ انہیں سہلائیں بھی

یہ آنکھیں خزاں میں زرد رہیں، یہ آنکھیں بہار میں سرخ رہیں
جب پھول کھلیں تو جل جائیں،جب چاند بجھے مرجھائیں بھی

وہ قافلے شاہ سواروں کے اب دھول اڑاتے گزر گئے
یہ شہر پناہ کھلی رکھو شاید کہ وہ واپس آئیں بھی

اب اور ہمیں دکھ دینے کو وہ شخص نہیں آنے والا
اب بیٹھے اپنے زخم گنیں، اپنے دل کو سمجھائیں بھی

اب تو یہ چاند بھی ڈوب چلا، اب آؤ عبیدؔ ادھر آؤ
دیکھو، یہ الاؤ جلا ہے ادھر، بیٹھو، کچھ دل بہلائیں بھی

379681_575609749178325_1544051022_n

Posted on December 27, 2013, in Lovely Sad Poetry, Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s