کبھی ایسا بھی ہوتا ہے

 

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
اندھیرے شام سے پہلے
نگاہوں میں اترتے ہیں
چمکتی دھوپ کا منظر
بہت تاریک لگتا ہے
گھنے پیڑوں کے سائے بھی
زمیں سے روٹھ جاتے ہیں
کہ صبحِ نو بہاراں بھی
خزاں معلوم ہوتی ہے
کبھی ایسا بھی ہوتاہے
کہ حرف و صورت کے رشتے 
زباں‌سے ٹوٹ جاتے ہیں
نہ سوچیں ساتھ دیتی ہیں
نہ بازو کام کرتے ہیں
رگوں میں لہو بھی
منجمد محسوس ہوتا ہے
چراغِ جسم و جاں کی لو 
دھواں معلوم ہوتی ہے
مگر جب ایسا ہوتا ہے
تو آنکھوں کے جزیرے 
سیلِ غم میں ڈوب جاتے ہیں
شجر ہوتا ہے رستے می
ں نہ سائے کا نشاں کوئی
زمیں رہتی ہے قدموں میں
نہ سر پر آسماں‌کوئی
شکستہ دل کے خانوں میں
بس اک احساس ہوتا ہے
یہ رشتے کیوں بکھرتے ہیں
جو اپنے لوگ ہوتے ہیں
وہ ہم سے کیوں بچھڑتے ہیں

550581_10151185379433291_784774617_n

Posted on December 26, 2013, in Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s