ھم یہیں آس پاس تھے لیکن۔

 

ھم یہیں آس پاس تھے لیکن۔
ھم تیرے التفات کو ترسے۔
عمر بھر گفتگو رھی لیکن۔
پیار کی ایک بات کو ترسے۔
دل پھول کی نازک پتی تھا۔
جو کنکر سے بھی ٹوٹ گیا۔
اب کیا رونا، اب کیا حاصل۔
جب ساتھ ھمارا چھوٹ گیا۔
لفظوں کے نوکیلے کنکر سے۔
اب اور کسے تم توڑو گے۔
یہ تن من کرچی کرچی ھے۔
اس کو اب کیسے جوڑو گے۔
خواھش تھی جو حسرت میں ڈھلی۔
تیرے آنگن کی، جنت کی۔
تیرے پیار کی ٹھنڈی چھاؤں کی۔
اس پیاسے دل کی منت کی۔
یہ ریشم کا اک تار نہ تھا۔
تھا کچا دھاگہ ٹوٹ گیا۔
جب دل ھی ریزہ ریزہ ھے۔
یہ تو پھر جاناں، ناتا تھا۔
جو تیرے ھاتھ کے کنکر تھے۔
وہ میری روح کے پتھر تھے۔
اک عمر تیرے سنگ کیا چلتے۔
دو چار قدم بھی دوبھر تھے۔
تھے تیری محبت کے قابل۔
یا کہ قدموں کی ٹھوکر تھے۔
اب ان باتوں سے کیا حاصل۔
ھم پتھر تھے یا گوھر تھے۔
دل پھول کی نازک پتی تھا۔
اور ھاتھ میں تیرے کنکر تھے۔
جو پتھر تھے، جو پتھر تھے

426568_10151401885398291_1300511548_n

Posted on December 23, 2013, in Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s