کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا

کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا
وہ شخص ایسا گیا پھر نظر نہیں آیاوفا کے دشت میں رستہ نہیں ملا کوئی
سوائے گرد سفرہم سفر نہیں آیا

پلٹ کے آنے لگے شام کے پرندے بھی
ہمارا صبح کا بھولا مگر نہیں آیا

کِسی چراغ نے پوچھی نہیں خبر میری
کوئی بھی پھول مِرے نام پر نہیں آیا

چلو کہ کوچئہ قاتل سے ہم ہی ہو آئیں
کہ نخلِ دراپہ کب سے ثمر نہیں آیا

خدا کے خوف سے دل لرزتے رہتے ہیں
انھیں کبھی بھی زمانے سے ڈر نہیں آیا

کدھر کو جاتے ہیں رستے، یہ راز کیسے کھلے
جہاں میں کوئی بھی بارِدگر نہیں آیا

یہ کیسی بات کہی شام کے ستارے نے
کہ چین دل کو مِرے رات بھر نہیں آیا

ہمیں یقین ہے امجد نہیں وہ وعدہ خلاف
پہ عمر کیسے کٹے گی، اگر نہیں آیا

امجد اسلام امجد

427269_10151409658163291_1746801306_n

 

Posted on December 23, 2013, in Amjad Islam Amjad Poetry, Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s