تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا

 

تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا
ریت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
دیکھ کر پرندوں کو باندھنا نشانوں کا
ریت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے

تم ابھی نئے ہو نا اس لیے پریشاں ہو
آسمان کی جانب اس طرح سے مت دیکھو
آفتیں جو آنی ہوں ٹوٹنا ستاروں کا
ریت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے

شہر کے یہ باشندے نفرتوں کو بو کر بھی
انتظار کرتے ہیں فصل ہو محبت کی
بھول کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا
ریت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے

اجنبی فضا وْں میں اجنبی مسافر سے
اپنے ہر تعلق کو دائمی سمجھ لینا
اور جب بچھڑنا تو مانگنا دعاوْں کا
ریت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے

خامشی میرا شیوہ گفتگو ہنر اس کا
میری بے گناہی کو لوگ کیسے مانیں گے
بات بات پر جب کہ مانگنا حوالوں کا
ریت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے

481756_10151289516183291_1213434188_n

Posted on December 23, 2013, in Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s