اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقف حال تھا

 

اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقف حال تھا
وہ جو اسکی صبح عروج تھی وہی میرا وقت زوال تھا

میرا درد وہ کیسے جانتا میری بات وہ کیسے مانتا
وہ تو خود فنا کے سفر میں تھا اسے روکنا بھی مُحال تھا

وہ جو اسکے سامنے آ گیا وہی روشنی میں نہا گیا
عجب اسکی ہیبت حسن تھی عجب اسکا رنگ جمال تھا

کہاں جاؤ گے مجھے چھوڑ کر میں یہ پوچھ پوچھ کر تھک گیا
وہ جواب مجھے نا دے سکا وہ تو خود سراپا سوال تھا

سمے واپسی اسے کیا ہوا نہ وہ روشنی ، نہ وہ تازگی
وہ ستارہ کیسے بکھر گیا وہ جو اپنی مثال آپ تھا

وہ ملا تو صدیوں بعد بھی میری لب پر کوئی گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا

میری ساتھ وہ لگ کر رو دیا مجھے فقط وہ اتنا کہہ سکا
جسے جانتا تھا میں زندگی وہ تو بس وہم و خیال تھا۔

24642_10151412005988291_1907483899_n

Posted on December 23, 2013, in Urdu Poems and tagged , , , . Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s